مجھے اس لڑکی سے شادی نہیں کرنی۔

امی مجھے مجبور نہ کرو اس شادی سے مجھے نہیں کرنی اس لڑکی سے شادی ماں نے غصے سے بولا توں بکواس ناکر اتنی پیاری لڑکی ہے خوبصورت ہے سمجھدار ہے حافظہ قرآن ہے۔ تم کو کیانا چنے گانے والی لڑکی چاہیے اسد نے پانی کا گلاس دیوار کے ساتھ مارا مجھے نہیں کرنی شادی اس سے بس ماں باپ نے مجبور کیا اسد مان گیا ٹھیک ہے کر لیتا ہوں شادی اگر مجھے اچھی نا لگی تو طلاق دے دوں گا باپ نے گالی دی کمینے انسان کسی کی بیٹی کی زندگی برباد نہ کرنا مناہل کو کہاں معلوم تھا جس کے ساتھ وہ بیاہ کر جارہی ہے وہ مجبوری میں قبول کر رہا ہے اسے مناہل اور اسد کی شادی ہو گئی مناہل اچھی لڑکی تھی

بہت اچھی کب کون نصیب میں آجایے کب چلتے چلتے کوئی ہاتھ تھام کر زندگی کو جنت بنادے اور کب کوئی جنت کی زندگی کو کو جنت بنادے اور کب کوئی جنت کی زندگی کو جہنم بنادے کون جانتا ہے آنے والی سانس موت لے کر آئے گی یا زندگی کون جانے مناہل کے خواب تو تھے لیکن مناہل کا باپ تھا ماں مر چکی تھی بڑے تین بھائی تھے وہ بھی شادی شدہ تھے کون سینے لگ کر وداع ہوتی ماں کے بنا بیٹیاں خود کو اکیلا محسوس کرتی ہیں اسد نے مناہل کی طرف دیکھا آنکھیں سرخ تھیں رورو کر بے بس سی تھی اداسی تھی چہرے پہ اسد کو مناہل پہلے ہی پسند نہیں تھی مناہل کی طرف دیکھتے ہوئے بولا اب کیوں تو رہی ہے تم کو کوئی پھانسی تو نہیں دے رہاتا اپنی منحوس آواز بند کر مجھے بہت بر الگ رہا ہے مناہل اسد کے اس رویے پر اور پریشان ہو گئی خیر رات گزر گئی منابل خاموش رہی لڑکیاں بہت عجیب ہوتی ہیں بہت کچھ سہتی ہیں بھوک طعنے غریبی پھر بھی خاموش رہتی ہیں اسد دوسرے شہر میں ایک کپڑے کی فیکٹری میں کام کیا کرتا تھا فیکٹری والوں نے ایک روم دیا تھا

فیملی کے لیئے اسد کو۔ اسد کچھ مہینے بعد مناہل کو اپنے ساتھ لے گیا گھر سے بہت دور منابل اپنے شہر اپنے گھر سے اپنے ہمسفر کے ساتھ بہت دور ایک شہر میں جابسی تھی ایک محلہ جو بہت عجیب سا تھا یہاں لوگ اپنے کام سے کام رکھتے تھے کوئی مر رہا یا جی رہا کسی کو کسی سے کوئی مطلب نہ تھا مناہل کمرے میں داخل ہوئی سارا سامان مناہل نے اٹھار کھا تھا اسد چلا کر بولا جلدی سے اب سارے کمرے کی صفائی کر میں آتا ہوں مناہل تھک چکی تھی اسد باہر چلا گیا مناہل بیڈ پہ لیٹ گئی سوچا کچھ دیر آرام کرلوں پھر کمرے کی صفائی کروں گی لیٹی ہی تھی کے آنکھ لگ گی سو گئی رات کا ٹائم ۔ تھا اسد گھر آیا دیکھا منابل سوئی ہوئی ہے سامان ایسے ہی بکھر اپڑا ہے ۔ اتنے کمینی عورت ہے میں کہہ کر بھی گیا تھا کمرے کی صفائی کر دو جیسے باپ نے نوکر رکھے ہوئے ہیں کیسے سوئی ہوئی ہے اسد نے گالی دے کر چلانا شروع کیا

مناہل ڈر سی گئی سہم گئی اسد نے مناہل کے منہ پر تھپڑ دے ملا میں کیا کہہ کر گیا تھا سمجھ آتی ہے یا نہیں مناہل آہستہ سے بولی میں تھک گئی تھی آنکھ لگ گئی بس کر دیتی ہوں صفائی۔ جلدی سے برش پکڑ ا صفائی کرنے لگ گئی تھپڑ کا در دمنہ پہ نہیں روح پہ ہو رہا تھا صفائی مکمل کی اسد کھانا باہر سے لے کر آیا تھا خود کھا کر سو گیا جو بچا ہوا تھا تھوڑا سا وہ کھانا مناہل نے کھایا اور بے بسی میں لیٹ گئی صبح بنا بتائے اسد کام پر چلا گیا مناہل سوچ رہی تھی اسد میرے ساتھ ایسا کیوں کرتا ہے مجھے گالیاں دیتا ہے مجھے مارتا ہے ایسی لائف تو نہیں چاہی تھی نا میں نے کچھ مہینے گزرے فون آیا باپ گزر گیا اسد سے کہا میرے ابو فوت ہو گئے ہیں مجھے لے چلو گھر اسد نے منہ بنا کر کہا جاتا ہے تو اکیلی جاو میرے پاس ابھی بلکل بھی پیسے نہیں ہیں تم نے جانا ہے تو چلی جاو اتنا دور کا سفر مناہل نہی کر سکتی تھی

باپ کا آخری دیدار بھی نہ کر سکی بہت روئی تھی باپ کو یاد کر کے بہت روئی لیکن کیا کرتی نصیبوں کی ماری تھی خاموش تھی خوبصورت تو بہت تھی لیکن نصیب بہت بدصورت تھے شادی کو دو سال گزر گئے ہر روز گالیاں دیتا اسد ہر روز برا بھلا کہتا تھا ایک دن اسد بہت بھو کا گھر آیا مناہل کو تیز بخار تھا کھانا اچھانا بن سکا مرچ تیز ہو گئی کھانے میں اسد نے کھانا شروع کیا اتنی مرچ ڈال دہ کھانے میں مناہل اپنا درد چھپاتے ہوئے بولی کھا لیں مجھ سے ایسا ہی بنتا ہے اسد نے ہالوں سے پکڑ اعورت یہ حرام کے پیسے نہیں ہیں اس نے بلا وجہ بہت مارا مناہل کو منابل کی رونے کی آواز باہر جاری تھی سات والے گھر میں ایک لڑکا واصف آیا تھا وہ پڑھا لکھا سلجھا ہوا تھا اس نے دیکھا ساتھ والے گھر سے رونے کی آواز آرہی ہے دروازہ پر دستک دی اسد بڑی بڑی مونچھ رکھی ہوئی دروازہ کھولا سامنے واصف کھڑا تھا سر آپ کے گھر سے کسی لڑکی کی رونے کی آواز آرہی ہے اسد غصے سے بولا کیوں توں ٹھیکدار ہے

اس گھر کا جا چلا جا دماغ نہ خراب کر واصف کو بہت عجیب لگا اس کا رویہ اسد لیٹ گیا بیڈ پر منابل کا جسم چوٹوں سے بھرا ہوا تھا بخار شدید تھا یا اللہ کیا گناہ کر دیا میں نے کسی غلطی ہو گئی مجھ سے اپنی بھابھی کو ایک دن فون کیا بھا بھی اسد میرے ساتھ بہت برا کرتا ہے مجھے مارتا ہے پلیز بھائی سے کہیں بات کریں اس کو سمجھاؤ کوئی بھا بھی نے طنز کرتے ہوئے کہا ارے بہن اپنے گھر کی پرابلم خود دیکھو تمہارا بھائی خود بہت پریشان ہے آجکل مر دمارتے تو ہیں ہی بر داشت کر توں فون بند ہو گیا کہاں جائے باپ مر گیالماں ہے نہیں کوئی اللہ کے سواعد دگار بھی نہیں ہے اسد کا روز کا معمول بن گیا تھا ہر روز کسی نہ کسی بہانے اسد مناہل کو مار تا مناہل کی عادت بن گئی تھی اب مار کھاتا وہ موت مانگ رہی تھی مرنا چاہتی تھی ایک دن منائل بے ہوش سی پڑی تھی گھر میں بھو کی تھی کھانا نہیں کھایا تھا دروازے پر دستک ہوئی لنگڑاتی ہوئی گئی

دروازہ کھولا سامنے خوبصورت سالڑ کا واصف تھا مسکرا کر کہنے لگا کیا میں اندر آسکتا ہوں مناہل نا کچھ کہے نادر چلی گئی واصف اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوا دیکھا مناہل کا بہت برا حال تھا اس کی آنکھوں میں درد تھا وہ چیخ چیخ کر جیسے کہہ رہی ہو مجھے بچا لو اس جہنم سے مناہل پیاری سی لڑکی تھی اور اسد ایک دیسی ٹائپ جاہل ساکیوں مارتا ہے آپ کو یہ بندہ آپ پولیس کو کیوں نہیں کال کرتی ہو کیوں آپ ظلم سہتی ہیں واصف سوال کیا۔۔۔ مناہل روتے ہوئے بولی آپ کون ہیں واصف نے اپنا تعارف کر وایا میں وکیل ہوں میرا نام ۔ واصف ہے میں بھی یہی ساتھ والے گھر میں آیا ہوں کرائے پر منابل روتے ہوئے بولی کس کے پاس جاوں کہاں جاوں کیا کہوں میرا کوئی ہے نہیں نہ ماں نہ باپ بھائی پوچھتے نہیں اس نے چھوڑ دیا تو طلاق کا داغ لے کر کہاں جاوں گی واصف سمجھ رہا تھا مجبوری مناہل کہ واصف نے مناہل کی آنکھوں میں دیکھا اچھا آپ پریشان نہ ہوں

میں نکال لوں گا بہت جلد تم کو اس جہنم سے یہ کہہ کر واصف چلا گیا رات کو اسید آیا آج تو اسد شراب پی کر آیا تھا وہی روٹین میں گالیاں دی کھانا کھایا اور کہنے لگا چل میں ٹانگیں دیا ساری رات دباتی رہی اسد کو اسد صبح اٹھا میرے کپڑے پر لیس کیئے یا نہیں منائل جلد تم کو اس جہنم سے یہ کہہ کر واصف چلا گیا رات کو اسد آیا آج تو اسد شراب پی کر آیا تھا وہی روٹین میں گالیاں دی کھانا کھایا اور کہنے لگا چل میں ٹانگیں دیا ساری رات دباتی رہی اسد کو اسد صبح اٹھا میرے کپڑے پر میں کیئے یا نہیں مناہل صبح اٹھا میرے کپڑے پر میں کیئے یا نہیں منابل جلدی سے بولی بس ناشتہ تیار کر لوں پھر کر دیتی ہوں اسد نے گردن سے پکڑا مناہل کو سانس بند کردہ مناہل کہ توں مر جائے نا تو میری لائف بن جائے مشکل سے مناہل نے گردن چھڑائی اسد ہوئی منابل دوڑتے ہوئے دروازے کی طرف گئی واصف ہاتھ میں ایک شاپر پکڑاگھر میں داخل ہوا

مناہل جاو شاور لے کر او مناہل نے پوچھا لیکن کیوں واصف پیار سے کہنے لگا ارے جاو تو منابل نہا کر آئی گیلے بال بہت پیاری لگ رہی تھی واصف نے شاپر سے بریانی کا ڈبہ نکالا بہت بھول لگی ہے کاڈ جلدی سے کھاتے ہیں مناہل کھانے لگی اتنے مزے کی بریانی ہوٹل سے لیکر آئے ہو واصف مسکرانے لگاجی نہیں خود بنائی میں نے آپ کیا سمجھتی وکیل کو کھانا بنانا نہیں آتا مناہل بہت خوش تھی بہت زیادہ واصف کے روپ میں اس کو زندگی نظر آنے لگی واصف بہت سی باتیں کرتا منابل سے منابل واصف کو یاد کرتے ہوئے اسد کے سب ظلم سہہ جاتی دوسرے دن واصف آیا مناہل ایک بات کہوں مناہل نے پیار سے کہا ہاں وصف بولیں مجھ سے سے شادی کرو گی منائل کی آنکھوں میں آنسو آگئے واصف نہ کھیلو مجھ سے میں پہلے ہی بہت درد میں ہوم اگر میرا جسم چاہیے تو آجاو جو کرنا ہے کر لو لیکن مجھ سے کھیلیتا

واصف نے مناہل کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا منابل واصف غیرت مند مرد ہے ایسا بھی نہ سوچنا واصف کھیلنے آیا ہے اچھا سنو میں کچھ دن کے لیے واپس گاوں جارہا ہوں اپنا خیال رکھنا آوں گا تو تم کو چھڑالوں گا اس انسان سے مناہل کا دل بیٹھ سا گیا واصف نہ جاو چھوڑ کر واصف نے ہاتھ اپنے ہاتھ میں کیا ارے یقین رکھو کچھ نہیں ہو گا 5- 6 دن لگے گے۔ میں آجاوں گا اپنا خیال رکھنا ماتھے پر بوسہ لیا مناہل کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے واصف کو دروازے میں کھڑی ہو کر جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی دیکھتے دیکھتے آنکھوں سے اوجھل ہو گیا رات ہوئی اسد گھر آیا کھانا کھایا منابل خاموش تھی اسد نے گالی دی چپ کیوں ہے کون مر گیا تیرا کمینی میری زندگی کو جہنم بنا رکھا ہے توں نے چل میرے پیر دبا منابل خاموش رہی واصف کے جانے دکھ تھاوہ خیالوں میں گم تھی اسد چائے پی رہا تھا چائے کافی گرم تھی جان بوجھ کر گرم چائے مناہل پر گرادی مناہل کو آج درد محسوس

نہ ہوا

کسی محلے دار نے اسد کو بتایا اس کی بیوی کا چکر تھا ساتھ والے گھر کے لڑکے کے ساتھ اسد بے قابو ہو گیا مناہل کو بہت مارا اس نے اتناباد امنائل بے جان کی ہو گئی اسد مار رہا تھا مناہل اب رو بھی نہیں رہی تھی خون سے لت پت مناہل کو آدھی رات کو اٹھا کر گھر کے باہر پھینک دیا طلاق دے دی مناہل کو مناہل گلی میں بے ہوش پڑی تھی جسم زخمی تھا خیال واصف کا تھا کسی نے اٹھا کر ہسپتال داخل کروا دیا لاورث تھی مناہل کا کوئی اپنا نہ تھا علاج چل رہا تھا 10 دن بعد واصف آیا دیکھا گھر کو تالا لگا ہوا تھا واصف کو بتایا اس کے شوہر نے اسے بہت مارا طلاق دے کر چلا گیا مناہل نفسیاتی ہو چکی تھی وہ ہر کسی سے ڈرنے لگی تھی چیچ بیچ کر روتی پھر چھپ کر بیڈ کے پیچھے بیٹھ جاتی حالت بہت بری تھی ڈاکٹر ز نے پاگل خانے پچھنے کا فیصلہ کیا لا ورث منابل موت سے موت سے بد تر زندگی گزار رہی تھی منابل کو پاگل خانے لے جانے کی تیاری ہو رہی تھی اتنے میں واصف وہاں آیا دیکھا منابل بال بکھرے ہوئے برا حال آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے مناہل نے واصف کو دیکھا مسکرانے لگی زمین پہ بیٹھ گئی

آنکھوں سے آنسو بہنے لگے رونے لگی وہ چیخ چیخ کر واصف کو آواز دینا چاہتی تھی لیکن جسم دل کا ساتھ نہ دے بہا تھا واصف دوڑتا ہو امنابل کے پاس گیا ارے یہ کیا حالت بنارکھی ہے توں نے مناہل نے اپنا منہ واصف کے سینے پہ رکھ لیا اور تڑپتے ہوئے رونے لگی واصف ماتھا چوم کر حوصلہ دینے لگا بس بس میری جان بس میں آگیا ہوں ناسب ٹھیک ہو جائے گا اب مناہل واصف کی طرف دیکھتے ہوئے بولی کہا تھا نہ جاو چھوڑ کر واصف سر پہ ہاتھ پھیرنے لگا بس بس میری جان مناہل کو گھر لے گیا نکاح کر لیا منابل سے بہت خیال رکھا مناہل کا خود کھانا بنا کر دیتا بال سنوار تا پار لر لے کر جاتا چھوٹی چھوٹی خوشیاں مناہل کے قدموں پہ لار کھتا

منابل زندگی کی طرف لوٹ آئی منابل حافظہ تھی قرآن کی تلاوت کرتی نماز ادا کرتی اللہ کا شکر ادا کرتی بہت خوش تھی مناہل دیکھو تمہارے لیئے کیا لے کر آیا ہوں مناہل نے گفٹ کھولا نئے گھر کی چابی تھی اچھا ہمسفر بڑا گھر گاڑی سب کچھ تھا اب منابل کے پاس مناہل کو اللہ نے 3 بیٹے عطا کیئے بہت خوش تھی اب اسد کے کیے ہوئے ظلم بھول گئی اسد ہارٹ اٹیک سے مر چکا تھا کوئی قبر پہ جا کر دعا کرنے والا بھی نہ تھا اسد کی لیئے یوں ایک ظلم کی داستاں ختم ہوئی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.