بادشاہ اور حسین عورت کی کہانی بادشاہ نے دروازہ کھٹکھٹایا فیروز کی بیوی نے دروازہ کھولا تو بادشاہ اندر آکر بیٹھ گیا۔ اس نے کہا آج بادشاہ سلامت ہمارے غریب خانے ۔ بادشاہ نے کیا آج میں آپ کا مہمان ہوں۔

ایک بادشاہ محل کی چھت پر ملنے چلا گیا۔ ملتے مسلتے اس کی نظر محل کے نزدیک گھر کی چھت پر پڑی جس پر ایک بہت خوبصورت عورت کپڑے سکھا رہی تھی۔ باد شاہ نے اپنی ایک باندی کو بلا کر پوچھا

کس کی بیوی ہے یہ ؟ باندی نے کہا بادشاہ سلامت یہ آپ کے غلام فیروز کی بیوی ہے۔ بادشاہ نیچے اتراء بادشاہ پر اُس عورت کے حسن و جمال کا سہر سا چھا گیا تھا اس نے فیروز کو بلایا۔

فیروز حاضر ہوا تو بادشاہ نے کہا کہ فیروز ہمارا ایک کام ہے۔ ہمارا یہ خط فلاں ملک کے بادشاہ کو دے او۔ اور اس کا جواب بھی لے آنا۔ فیروز: بادشاہ کو محکم سر آنکھوں پر اور وہ خط کو لے کر گھر واپس آگیا۔

خط کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ دیا سفر کا سامان تیار کیا رات گھر میں گزری اور صبح منزل مقصود پر روانہ ہو گا اس بات سے لاعلم کے بادشاہ نے اس کے ساتھ کیا چال چلی ہے۔

ادھر فیروز جیسے ہی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ بادشاہ چپکے سے فیروز کے گھر پہنچا اور آہستہ سے فیروز کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا فیروز کی بیوی نے پو چھا کون ہے؟

بادشاہ نے کہا:

میں بادشاہ تمہارے شوہر کا مالک۔ تو اس نے دروازہ کھولا باد شاہ اندر آکر بیٹھ گیا فیروز کی بیوی نے حیران ہو کر کہا آج بادشاہ سلامت یہاں ہمارے غریب خانے میں ؟ بادشاہ نے کہا:

میں یہاں مہمان بن کر آیا ہوں فیروز کی بیوی بادشاہ کا مطلب سمجھ گئی اور کہا میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ آپ کے اس طرح آنے سے جس میں مجھے کوئی خیر نظر نہیں آرہا۔

بادشاہ نے غصے میں کہا: اے لڑکی کیا کہہ رہی ہو تم ؟ شاید تم نے مجھے پہچانا نہیں میں بادشاہوں تمہارے شوہر کا مالک۔ فیروز کی بیوی نے کہا: بادشاہ سلام میں جانتی ہوں کہ آپ بھی بادشاہ ہیں،

لیکن بزرگ کہہ کے ہیں کہ اگر مچھر کر جائے کھانے میں تو میں ہاتھ اٹھا دیتا ہوں اگرچہ کہ میرا دل کرتا ہے کھانے کو۔ میں تمہارے پانی میں کوئی پھول نہیں

چھوڑوں گا۔

لوگوں کا بکثرت یہاں آنے جانے کی وجہ سے شعر کو اگرچہ جتنی بھی تیز بھوک لگی ہو ، لیکن وہ مردار تو نہیں کھانا شروع کر دیتا اور کہا: بادشاہ سلامت تم اس کٹورے میں پانی پینے آئے ہو

جس میں تمہارے کتے نے پانی پیا ہے۔ بادشاہ اس عورت کی باتوں سے بڑا شر مسار ہوا اور اس کو چھوڑ کر واپس چلا گیا لیکن اپنے اہل وہیں پر بھول گیا یہ سب تو بادشاہ کی طرف سے ہوا

اب فیروز کو آدھے راستے میں یاد آیا کہ جو خط بادشاہ نے اسے دیا تھاوہ تو گھر پر ہی چھوڑ آیا ہے اس نے گھوڑے کو تیزی سے واپس مڑا اور اپنے گھر کی طرف لپکا۔ فروز اپنے گھر پہنچا توں

نیکیے کے نیچے سے خلط نکالتے وقت اس کی نظر پنگ کے نیچے پڑے بادشاہ کے چپل پر پڑی جو وہ جلدی میں بھول کیا تھا۔ فیروز کا سر چکرا کر رہ گیا۔ اور وہ سمجھ گیا کہ

بادشاہ نے اس کو سفر پر صرف اس لیے بھیجاتا کہ وہ اپنا مطلب پورا کر سکے۔ فیروز کسی کو کچھ بتائے بغیر چپ چاپ گھر سے نکلا، خط لے کر وہ چل پڑا اور کام ختم کرنے کے بعد بادشاہ کے پاس واپس آیا

چلو تمہارے میکے چلتے ہیں۔ بیوی نے پو چھا ہے کیا ہے ؟ کہا بادشاہ نے انعام دیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ پہن کر اپنے گھر والوں کو بھی دکھاؤ۔ بیوی جیسے آپ چاہیں،

بیدی تیار ہوئی اور اپنے والدین کے گھر اپنے شوہر کے ساتھ روانہ ہوئے داماد اور بیٹی اور ان کے لیے لائے گئے تحائف کو دیکھ کر وہ لوگ بہت خوش ہوئے۔ فیروز بیوی کو چھوڑ کر واپس آگیا

اور ایک مہینہ گزرنے کے باوجود نہ بیوی کا پوچھا

اور نہ اس کو واپس بلایا۔ پھر کچھ دن بعد اس کے

سالے وہ سے ملنے آئے اور اس سے پوچھا کہ فوز آپ ہمیں ہماری بہن سے غصے اور ناراضگی

کی وجہ بتائیں

یا پھر ہم آپ کو قاضی کے سامنے پیش کریں گے۔ تو اُس نے کہا اگر تم چاہو تو کر لو لیکن میرے زمے اس کا ایسا کوئی حق باقی نہیں جو میں نے ادا نہ کیا ہو۔ وہ لوگ اپنا کیس قاضی کے پاس لے گئے۔

تو قاضی نے فروز کو بلایا۔ قاضی اس وقت بادشاہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ لڑکی کے بھائیوں نے کہا: اللہ بادشاہ سلامت اور قاضی القضاء کو قیام و دائم رکھیں قاضی صاحب ہم نے ایک سر سبز باغ،

درخت پھولوں سے بھرے ہوئے اور ساتھ میں پانی کا کنواں اس شخص کے حوالے میں دیا تو اس شخص نے ہمارا باغ اجاڑ دیا سارے پھل کھا لیے درخت کاٹ لیے اور قوم کو خراب کر کے بند کر دیا۔

قاضی نے فیروز کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا ہاں تو لڑکے تم کیا کہتے ہو اس بارے میں ؟ فیروز نے کہا: قاضی صاحب جو باغ مجھے دیا گیا تھا وہ اس سے بہتر حالت میں، میں نے انہیں واپس کیا ہے۔

قاضی نے پوچھا: کیا اس نے باغ تمہارے حوالے ویسی ہی حالت میں واپس کیا ہے جیسے پہلے تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں ویسے ہی حالت میں واپس کیا ہے لیکن ہم اس سے

باغ واپس کرنے کی وجہ پوچھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ قاضی : ہاں فیروز تم کیا کہنا چاہتے ہو اس بارے میں ؟ فیروز نے کہا: قاضی صاحب میں نے باغ کسی بغض یا نفرت کی وجہ سے نہیں چھوڑا،

بلکہ اس لیے چھوڑا کہ ایک دن میں باغ میں آیا تو اس میں میں نے شیر کے پنجوں کے نشان دیکھے۔ تو مجھے خوف ہوا کہ شیر مجھے کھا جائے گا اس لئے شعر کے اکرام کی وجہ سے میں نے

باغ میں جانا بند کر دیا بادشاہ جو ٹیک لگائے یہ سب کچھ سن رہا تھا اور اٹھ کر، اور اٹھ کر بیٹھ گیا اور کہا فیروز اپنے باغ کی طرف امن اور مطمئن ہو کر جاؤ، واللہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیر تمہارے باغ آیا تھا۔

لیکن وہاں پر نہ تو کوئی اثر چھوڑ سکا، نہ کوئی پتہ توڑ سکا اور نہ ہی کوئی پھل کھا سکا۔ وہ وہاں پر تھوڑی دیر رہا اور مایوس ہو کر لوٹ گیا۔ اور خدا کی قسم میں نے کبھی تمہارے جیسے باغ کے گرد لگے

مضبوط دیوار میں نہیں دیکھی۔ تو فیروز اپنے گھر واپس لوٹ آیا اور اپنی بیوی کو بھی لے لیا۔ نہ ہی قاضی کو کچھ پتہ چلا اور نہ ہی کسی اور کو کہ ماجرا کیا تھا ! ! !

کیا خوب بہتر ہے اپنے اہل و عیال کے راز چھپانا۔ تاکہ لوگوں کو پتہ نہ چلے۔ اپنے گھروں کے بھید کسی پر ظاہر نہ ہونے دو

اللہ تعالی آپ لوگوں کی جھوٹی خوشیوں سے بھر دے۔ آپ کے اہل و عیال کو اور آپ کے مال کو اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین ثم آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published.