ایک خاتون روزانہ تندور سے روٹیاں لینے جاتی تھی تندور والا خاتون کے حسن کا دیوانہ ہو گیا اور اسے آفر دی

ایک تندور والا دن میں اٹھارا گھنٹے تک روٹیاں بیچتا تھا ۔ علاوہ اس نے اپنے چھوٹے بھائی اور دو بیٹوں کو بھی الگ تیار اپنے مقامات * تندور نگاری کر دیے ۔ اس کے پاس ایک عورت روٹیاں لینے کے لیے آتی تھی ۔ تندور والا اسے غور سے دیکھتا روٹیاں لیتے وقت اس کے ہاتھوں پر نظر رکھتا ۔ مگر وہ اس بات پر حیران تھا کہ عورت نے بھی آنکھ اٹھا کر اس کی طرف نہیں دیکھا تھا ۔ وہ ہر وقت اس کی سوچوں میں کم رہنے لگا ۔ یہی ۔ سوچتا کہ وہ اکیلی ہی ہو گی تبھی تو ہر روز خود روٹیاں لینے آتی ہے ورنہ کوئی نہ کوئی مرد ضرور آتا ۔

شیطان اس کے سر پر سوار ہونے لگا ۔ ایک دن اس دماغ میں ایک شیطانی ترکیب آئی ۔ جب خاتون روٹیاں لینے کے لیے آئی تو اس نے ایک اخبار میں روٹیاں لپیٹ کر دی اور اخبار کے کونے پر ایک تحریر لکھ دی ۔ خاتون نے گھر جا کر تحریر پڑھی تو اس میں لکھا تھا ۔ میں آپ کا دیوانہ ہو چکا ہوں اور آپ کے کام بھی آنا چاہتا ہوں ، اگر تم چاہو تو پورا ایک ، مہینہ مجھ سے مفت میں روٹیاں لے سکتی ہے ۔ بدلے میں بس ایک رات تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں ، عورت نے تحریر کے بدلے میں ہاں میں جواب دے دیا ۔ خاتون اس تندور والے سے بغیر قیمت ادا کیے روٹیاں لیتی رہی اور جیسے جیسے دن قریب آ رہے تھے تندور والا دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا کہ اس کے دل کی خواہش پوری ہونے کو ہے

مہینے کے آخری دن خاتون اسکے سامنے آئی تو آدمی نے کہا اب پنا وعدہ پورا کرو ۔ خاتون نے کہا کہ میں اپنے وعدے پر قائم مجھے میرے گھر میں ہی آنا ہو گا ۔ ادھر ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ خاتون آگے آگے اور تندور والا اس کے پیچھے پیچھے چلنا شروع ہوا ۔ خاتون نے گھر کا دروازہ کھولا اور کمرے میں داخل ہوئی تندور والا جب کمرے میں داخل ہوا دیکھا کہ ایک آدمی بستر پر پڑا ہے اور دو کمزور سے بچے زمین پر بیٹھے ہیں ، تندور والے نے غصے بھرے انداز میں عورت سے کہا یہ کیا مذاق ہے ، تم نے تو کہا تھا کہ گھر میں کوئی بھی نہیں ہے ۔

خاتون نے جواب دیا کہ آپ کو یاد ہو گا ۔ میں نے کہا تھا کہ ادھر ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ میرا شوہر فالج کا مریض ۔ اور بچوں کو شعور بھی نہیں کہ ان کی ماں اپنے بچوں کی خاطر اپنا جسم   بیچتا ھیں۔  یہ بات سن کر تندور والا کانپنے لگا ۔ عورت کی اس بات نے اس کے دل پر ایک گہرا اثر کیا ۔ اس نے خاتون سے معافی مانی اور واپس چلا گیا ۔ اس دن کے بعد تندور والے نے اپنی عادت بنا لی کہ غریب لاچار عورتوں کو اللہ کی راہ میں مفت روٹیاں دے دیتا اور روئی دیتے وقت اپنی نگاہیں نیچی رکھتا ۔ کیونکہ اکثر گناہ کا آغاز نگاہ سے ہی شروع ہوتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published.