ذیابطیس گردے فیل کر رہی ہے آنکھوں پر ظاہر ہونے والی ان علامات سے غافل نہ رہیں

جب بھی کسی کو کوئی بیماری ہوتی ہے تو اسے جسم میں کچھ علامات نظر آنے لگتی ہیں۔ ان علامات سے، وہ سمجھتا ہے کہ کچھ غلط ہے. اس کے بعد وہ اس بیماری کا علاج علامات کی بنیاد پر کرتا ہے۔ کچھ بیماریاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی علامات جلد سمجھ میں نہیں آتیں یا طویل عرصے بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ذیابیطس بھی ایک ایسی بیماری ہے جس کی علامات اتنی جلدی نظر نہیں آتیں اور بندہ اس پر توجہ نہیں دیتا اور میٹھا حسب معمول کھاتا رہتا ہے لیکن طویل عرصے تک اگر شوگر کو نظر انداز کیا جاتا رہے تو یہ جسم کے دیگر اعضا کو نقصان پہنچاتی ہے خاص طور پر گردوں اور آنکھوں کو۔

ذیابطیس کی ابتدائی علامات زیادہ خطرناک نہیں ہوتیں لیکن وقت گزرنے کیساتھ یہ بیماری نظر انداز کیے جانے کی صورت میں سنگین صورت حال اختیار کر سکتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ذیابطیس کے ہر 3 میں سے ایک فرد کو گُردے کی کوئی نہ کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے اور یہ بیماری اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب گُردے کی فلٹر کرنے کی صلاحیت متاثر ہو جائے اور یہ خون سے پروٹین کی زیادہ مقدار کو خارج کرنا شروع کر دے۔

ماہرین کے نزدیک ذیابطیس سے پیدا ہونے والی گُردے کی اس بیماری کی تشخیص آنکھوں سے کی جا سکتی ہے اور ان کے نزدیک جب کسی شوگر کے مریض کی شوگر کنٹرول نہ رہتی ہو اور اس کی وجہ سے اُس کی آنکھوں کے گرد سوزش ظاہر ہو رہی ہو تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ اس شخص کے گردے ٹھیک کام نہیں کر رہے اور اسے ذیابطیس گردے کی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔ آنکھوں کے گرد سوزش کے علاوہ گردوں کی خرابی کی یہ علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں جن میں توجہ دینے میں دشواری، بھوک میں کمی، جلد پر الرجی اور خارش، پھٹوں میں درد، پیروں اور ٹخنوں میں سوزش، بار بار پیشاب، پیلے رنگ کا پیشاب وغیرہ۔

ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریض ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے مقابلے میں گردے سے متعلق بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ذیابیطس کے گردے کی بیماری ٹائپ 1 ذیابیطس والے لوگوں میں بہت عام ہے، لیکن یہ مسئلہ ٹائپ 2 ذیابیطس والے لوگوں میں بھی زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ ذیابیطس گردے کی بیماری گردے فیل ہونے کی بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔ جو لوگ ڈائیلاسز پر ہیں ان میں سے پانچ میں سے ایک کو ذیابیطس گردے کی بیماری ہے۔

ڈاکٹر سے کب ملنا ہے

اگر آپ کو اوپر دئی گئی کسی بھی علامت میں سے کوئی محسوس ہو رہی ہے تو فوراً اپنے معالج سے رابطہ کریں تاکہ وقت پر مرض کی تشخیص ہو سکے۔ اگر آپ شوگر کے مریض ہیں تو اپنی شوگر کو کنٹرول میں رکھیں اس کام کے لیے ادویات کی بجائے ورزش اور خوراک کو ترجیح دیں لیکن ادویات کو ترک نہ کریں اور ڈاکٹر کے مشورے کیساتھ انہیں استعمال کرتے رہیں اور روزانہ اپنی شوگر کو چیک کریں تاکہ آپ کو پتہ چل سکے کے وہ کونسے عوامل ہیں جن سے شوگر کم یا زیادہ ہوتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.