شوہر نے میر احلالہ ایک ایسی چیز سے کروایا کہ سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں

میر انام منیب الرحمن ہے پر میر ااصل نام کسی کو نہیں معلوم . بی ان دنوں کی بات ہے جب مجھے ساہیوال کے ایک نواحی علاقے میں جاسوسی کے لیے بھیجا گیا تھا ۔ میر احلیا فقیر وں یاما نگنے والوں جیسا ہو تا تھا اسی لیے لوگ مجھے پہچانتے نہیں تھے۔ورنہ میں ایک اعلی سر کاری عہدے پر فائز تھا ، بہر حال آج کل میں جو کچھ

آکر آباد ہوا ۔ اس نے اپناسب کچھ اس طرح بدل رکھا تھا کہ اس کا ڈھونگ شاید کوئی بھی نہ کھول سکتا تھا ۔ تھی میں نے ایک فقیر کا روپ دھار لیا اور مختلف گلی چوں میں ، میں پورا پر بیٹھارہتا اور آنے جانے > والوں کو دیکھتارہتا بھی ایک دن میں ایک دکان کے سامنے بیٹھا تھا اللہ سے دعا کر رہا تھا ، خدا کوئی ایسی صورت نکال کے وہ منہوس میرے ہاتھ لگ جاۓ .

شاترانہ دماغ کو پکڑ نا کوئی آسان کام نہیں تھا ۔ پھر اس دن میں دکان کے آگے بیٹھا تھا تو میں نے دیکھا ایک عورت جس نے بہت خوبصورت لباس پہنا ہو اتحادکان کے اندر داخل ہوتی دکھائی دی دراصل میں اس دکان کے سامنے اس لیے بیٹھا تھا کیونکہ یہاں آنے جانے والوں کی تعداد زیادہ تھی ، اور یہ بات میں دو تین بار نوٹ کر چکا تھا ۔ یہاں سے لوگ سو دا لینے کم آتے اور د کان میں گر ش کر نے اور کان کے پیچھے سے گودام

کان میں گپ شپ کر نے یا دوکان کے پیچھے بنے گودام میں زیادہ تر جا کر لوگ بیٹھ جاتے ، اس بات کی وجہ سے میں اس دوکاندار پر شک کرنے لگا تھا ۔ دکان دار بہت ہی زیادہ خاموش طبع انسان تھاجو بھی آتا اسے اس کی مرضی داموں کی چیز دیتا ۔ میں نے بھی دو تین بار اسے چاول خرید نا چاہے جب میں نے بھاؤ تاؤ کیا تو اس نے مجھ سے جان چھڑانے کے لیے مجھے میری مرضی کی بھاؤ

تھی۔اس بات سے میں اور زیادہ شک کا شکار ہو گیا تھا ۔ بہر حال اب جو میں نے عورت دیکھی تھی اس کی خوبصورتی میری توجہ کا مرکز بن گئی تھیں ۔ وہ عورت بے پناہ خو بصورت تھی ۔ وہ عورت آئی اور اس دکان دار پر غصہ کرنے لگی۔غالباً یہ اس کی بیوی ہی تھی بیوی کے علاوہ تو کسی کو یہ حق نہیں ہو تا کہ وہ کسی شخص پر اتنا غصہ کرے ۔ اب میں دکاندار کا تماشاد یکھ رہا تھا

دوکاندار سر جھکاۓ اسے کچھ کہنا چاہ رہا تھا مگر وہ عورت اب بازد تھی ۔ وہ بار بار بار دکان کے پیچھے بنے گودام کی طرف اشارہ کر رہی تھی دکاندار اسے سمجھار ہاتھا . میں بھی موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سڑک پار کر کے دکان کے کاونٹرم کے آگے بیٹھ گیا تھا تا کہ ان کی باتیں غور سے سن سکوں ۔ وہ عورت بار بار اپنے شوہر سے کہہ رہی تھی کہ مجھے اپنا گو دام دکھاؤ میں جانتی ہوں وہ وہیں م مسلم سے جڑا گا کر گر کا ما کا

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.