گھر بھی ملا اور گاڑی بھی ۔۔ دلہن کا وزن 105 کلو ہے تو کیا ہوا آخر محبت تو ہے، جانئیے اس انوکھے جوڑے کی کہانی

وہ کہتے ہیں کہ اگر محبت میں سچا اور صاف دل دیکھ لیا جائے تو اپنے آپ اُس شخص سے لگاؤ ہوجاتا ہے۔پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ دبلا ہے موٹا۔

ایک ایسے ہی انوکھے جوڑے کے بارے میں آپ کو بتانے جا رہے ہیں جنہیں دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ دونوں میاں بیوی ہیں۔ اس کہانی میں لڑکی نے اپنے ڈرائیور سے ہی شادی کرلی جس کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر اُٹھا۔

لڑکی کا وزن 105 کلو گرام ہے جبکہ لڑکے کا وزن صرف 65کلو گرام ہے۔

لڑکے کا نام فرحان ہے جبکہ لڑکی کا نام خدیجہ ہے۔ فرحان کار ڈرائیونگ انسٹیٹیوٹ میں کام کرتے ہیں اور لوگوں کو گاڑی چلانا سکھاتے ہیں۔ خدیجہ بھی وہیں کار ڈرائیونگ سیکھنے جاتی تھیں جہاں ان دنوں کی ملاقات ہوئی اور بعد ازاں یہ تمام معاملات شروع ہوئے۔

فرحان ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ 2 سال قبل خدیجہ کے والد نے مجھے ڈرائیونگ سکھانے اپنے گھر بلایا تھا۔ میں نے ان کے گھر ایک سال تک کانٹریکٹ پر کام کیا۔ پھر خدیجہ کے والد نے کہا کہ تم ہمارے گھر کا حصہ بن جاؤ اور یہیں ہمارے لیے کام کرو۔

کار ڈرائیور فرحان نے بتایا کہ پھر ان کے والد نے مجھے خدیجہ کو سکھانے کی بھی ذمہ داری سونپی جس کے بعد میں انہیں گاڑی چلانا سکھائی۔ 3 چار ہفتوں میں ہماری اچھی بات چیت ہوگئی۔

فرحان نے بتایا کہ خدیجہ نے مجھے پہلے پسند کیا اور مجھ سے شادی کی بات کی تو میں نے ان کے پروپوزل کو قبول کیا۔ 105 کلو کی دلہن نے بتایا کہ مجھے یہ پسند آگئے تھے جس کی وجہ سے میں نے انہیں شادی کی پیشکش خود کی۔ دلہن نے بتایا کہ فرحان بہت اچھی عادات کے مالک ہیں۔ یہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔

فرحان نامی ڈرائیور نے کہا کہ میں نے خدیجہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے والد اس رشتے کے لیے راضی ہوجائیں گے تو انہوں نے کہا تھا کہ میں اپنے والد سے بات کروں گی اور وہ مان جائیں گے۔ حیران کن طور پر خدیجہ اپنے بابا کو منانے میں کامیاب ہوئیں۔

خدیجہ نے بتایا کہ مجھے میری دوستوں نے پوچھا کہ تم نے ایک ڈرائیور سے شادی کیوں کی تو میں نے ان کو یہی جواب دیا کہ اگر محبت ہوجائے تو بندہ کیا کر سکتا ہے۔ فرحان نے بتایا کہ خدیجہ کے والد نے ہمیں ایک گھر دیا گاڑی دی اور موبائل فون بطور تحفے میں پیش کیا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published.