لڑکی بتاتی نہیں مگر لڑکوں کو ضرور یہ بات پتہ ہونی چاہئے

شادی کے موقع پر دلہنیں بہت شرماتی ہیں اور چپ ہوکر بیٹھی رہتی ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے دل میں کوئی ارمان نہیں اور وہ دولہے سے کچھ کہنا نہیں

چاہتیں۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو وہ خاص شادی کے دن کے حوالے سے دولہے سے کہنا چاہتی ہیں لیکن کہہ نہیں پاتی ہیں۔ متعدد خواتین نے اپنے دل کی آواز

قارئین تک پہنچائی ہے تاکہ مرد جان لیں کہ جب وہ دولہا بنتے ہیں تو دلہن ان سے کیا توقع کررہی ہوتی ہے۔ شادی کا دن بہت خاص ہوتا ہے جس کے لئے پہلے ہی

بہت انتظار ہوچکا ہوتا ہے لہٰذا مزید انتظار کی گنجائش نہیں ہوتی۔ تو بس بارات لانے میں ہرگز تاخیر نہ کیجئے۔ دراصل دلہن بھاری عروسی لباس پہنے اور بھاری میک اپ کئے منتظر بیٹھی ہوتی ہے۔ اس حال میں اسے مزید انتظار کرنا بالکل اچھا نہیں لگتا۔ کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ درخت کو زور سے سڑک کے کنارے کی طرف دھکیل رہے ہیں لیکن درخت بھاری ہے اور اسے دھکیلنے والے لوگ کم ہیں۔ اس نے دیکھا‘ جوانوں کا سینئر ذرا سا فاصلے پر کھڑا ہے اور یہ وہاں چھڑی لہرا لہرا کر انہیں مزید زور لگانے کی ہدایات دے رہا ہے۔ اس شخص نے اندازا لگایا کہ اگر یہ سینئر بھی ان جوانوں کے ساتھ لگ جائے‘ یہ بھی درخت کو ہٹانے کیلئے زور لگانا شروع کر دے تو درخت چندمستقبل میں تمہارے علاقے میں کبھی کوئی درخت گر گیا تو تم مجھے فون کر دینا‘ مجھے اپنے جونیئرز‘ اپنے ماتحوں کے ساتھ کام کر کے بڑا مزہ آتا ہے روزنامہ دنیا کے مطابق سٹیج ڈرامہ ’’پٹرول پمپ ‘‘میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی مانیٹرنگ رپورٹ پر آرٹس کونسل نے سٹیج اداکارہ آفرین خان کو وارننگ نوٹس جاری کر دیا ہے

جس میں کہا گیا کہ سٹیج پرفارمنس کی سی ڈی میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مکمل ریکارڈ موجود ہے آج سے تقریباً چالیس سال پہلے ایک عالم دین چغتائی صاحب جن کا نام میں بھول گیا ہوں جمعہ کے دن جمعہ کی نماز سے پہلے اپنی تقریر میں بہاولپور کی مسجد الفردوس (جوکہ مسجد حافظ گھوڑا کے نام سے مشہور ہے) میں سنایا۔ میں پوری ایمانداری سے جو کچھ ان عالم دین چغتائی صاحب نے سنایا تحریر کررہا ہوں۔ یہ مضمون خاص کر ایسے لوگوں میں سے دیکھنے لگا۔ اس نے دیکھا کہ امام صاحب نے کمرے کی زمین پر سے چٹائی ہٹائی اس کے نیچے گھاس پھونس بھرا تھا انہوں نے اسے بھی ہٹاکر زمین میں سے ایک مٹی کی ہانڈی نکالی اس ہانڈی کو الٹایا تو زمین پر اشرفیوں کا ڈھیر لگ گیا۔ امام صاحب ان اشرفیوں سے کھیلنے لگے جب ان کا کھیل سے دل بھر گیا تو انہوں نے یہ اشرفیاں واپس ہانڈی میں رکھ کر ہانڈی زمین میں اسی جگہ پر رکھ دی اور اوپر سے گھاس پھونس ڈال کر چٹائی زمین پر بچھادی۔ اب روزانہ یہ لڑکا یہ تماشہ سوراخ میں سے دیکھتا ایک دن امام صاحب کو بخار چڑھ گیا‘ امام صاحب نے ایک لڑکے سے بازار سے مکھن منگوایا اور حسب معمول اپنے کمرے میں جاکر کمرہ بند کرلیا۔ ان کے اسی شاگرد نے سوراخ میں سے دیکھا کہ امام صاحب نے ہانڈی نکالی اور زمین پر اشرفیاں الٹیں۔ اب امام صاحب نے ایک ایک ہندو مرگیا۔ ادھر امام صاحب اشرفیاں کھاکر فوت ہوئے اور اُدھر ہندو مسلمانوں کا اصل معہ سود معاف کرکے مرا۔ ادھر امام صاحب کو قبر میں دفنایا ادھر ہندو کو مرگھٹ میں جادیا یہ سب ایک وقت میں ہوا۔

Sharing is caring!

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published.