ایک دن میراشوہر گھر نہیں تھا میں کچن میں کھانا بنارہی تھی اتنے میں میراد یور آگیا اور

میری نئی نئی شادی ہوئی تھی شادی سے پہلے بھی مجھے بن سنور کر رہنے کا بہت شوق تھا میں تیار ہو کر کچن میں کام کر رہی تھی میرے شوہر کے آنے کا وقت ہونے والا تھا میں ان کے آنے سے پہلے کھانا بالکل تیار کر دینا چاہتی تھی اتنے میں میرا دیوار جو میرے شوہر سے دو سال چھوٹا تھا کچن میں آگیا

اور وہ مجھے پلک جھپکے بغیر دیکھتا رہا میں بہت شرمندہ سی ہو رہی تھی جب میں اس کی نظروں سے گھبرا کر پیچھے کو پلٹی تو میری نظر اس کے چہرے پر پڑی وہ شرمندہ سا ہو گیا عورت تھی نظروں کا مہفوم سمجھتے تھی میں نے جلدی سے دوپٹہ سر پر اوڑھا اور کمرے میں پناہ لیک چھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی اور دیور کی آواز سنائی دی بھابھی میں معذرت خواہ ہوں انسان ہوں نفس کے ہاتھوں مجبور ہو گیا تھا اور آپ کو دیکھنے کا جرم کر بیٹھا اگر مجھے پتا ہوتا تو میں کبھی بھی کچن میں داخل نہ ہو تا بھابھی ایک گزارش ہے

مناسب حد تک پردہ کیجئے ” یہ الفاظ نہیں تھے تازیانہ تھے جو اس کی روح کو گھائل کر رہے تھے وہ جلدی سے اٹھی اس نے وضو کیا دو نفل ادا کیے اور قرآن کھولا قرآن کریم کی ، یہ آیت اسے سبق سکھا رہی تھیاور کہہ دو کہ اے ایمان والو اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کرے مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے اوراپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رھیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوند پر یا اپنے باپ پر یا اپنے خاوند کے باپ

یا اپنے بیٹوں یا اپنے خاوند کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان لوگوں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقت نہیں

اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ مارو کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے اور اے مسلمانو تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم سب نجات پاؤ

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published.