ایک خوبصورت جوان عورت اور شوہر کی لڑائی کا واقعہ

سمیر تم ہمیشہ ہی ایسا کرتے ہو وہ چیختے ہوۓ بولی ۔ سمیر چونکتے ہوۓ ارے اب میں نے کیا کر دیا آپ کچھ نہیں کرتے سب میں ہی کرتی ہوں پاگل ہوں نا وہ غصیلے لہجے میں زور سے چلا رہی تھی دیکھو 4 دن سے کہہ رہی ہوں پانی والی موٹر خراب ہے وہ ٹھیک کروا دو اور یہ کمرے کی حالت دیکھو کپڑے کہاں رکھے ہیں تم نے اور اپنے جوتے دیکھو کہاں پہ رکھ دیئے اور شاور لے کر بس ہو گیا ؟

سمیر میں تنگ آگئی ہوں سمیر اٹھا اور جنت کے ماتھے کو چومتے ہوئے بولا میری جان نہ کیا کرو غصہ ۔ تم پہ تو میرے دونوں جہاں قربان ۔ میری جان جب تم ناراض ہوتی ہو نا تو مجھے لگتا ہے میری دنیا کھو گئی مجھ سے ۔ جانتی ہو نا جب تم اپنی ماما کےگھر جاتی ہو تو میرا کیا حال ہوتا ہے تمہارے بنا ۔جنت میں ایک لمحہ بھی تیرے ساۓ سے دور نہیں گزار سکتا ۔ جنت تم کو خدا نے میرے نصیب میں لکھ کر مجھے دنیا میں ہی جنت دے دی بس تم ناراض نہ ہوا کرو سمیر کی آنکھوں میں آنسو تھے جنت سمیر کی آنکھوں کو چومتے ہوۓ تو سمیر میں بھی نہیں رہ سکتی نا تمہارےبتا ۔ اب بچوں کی طرح رونا بند کرو میں مر تو نہیں رہی ۔ وہ سمیر کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی سہلا رہی تھی سمیر نے جنت کو بانہوں میں بھر کے سینے سے لگا لیا کاش جنت مجھے موت بھی آۓ تو یوں تیری آغوش میں ہوں ۔ اور مر جاوں جنت کو جیسےدنیا بھر کی خوشیاں مل گئیں تھیں اس کو اتنا پیار کرنے والا شوہر ملا تھا وہ ایک دوسرے کی سانس میں سانس لیتے تھے ایک دن کوئی منحوس لمحہ آیا ان میں کسی بات کو لے کر جھگڑا ہو گیا

وہ ہر چوٹی چھوٹی بات یہ جھگڑنے لگے ایک دوسرے پر الزام لگانے لگے ہر آنے والا دن ان میں دوریاں بڑھا رہا تھا وہ جیسے ایک دوسرےسے تنگ آ چکے تھے ہر بات پر لڑنا سمیر کا رات بھر گھر نہ آنا جنت بھی بے پرواہ ہو گئی اور ایک دن جنت اپنی ماں کے گھر چلی گئی سمیر نے بھی شکر کیا چلی گئی بات بڑھتے بڑھتے طلاق تک جا پہنچی اور وہ آخری لمحہ ۔ وہ آخری قیامت ۔ وہ خزاں کا موسم ۔ وہ گلاب کا مرحجانا ۔ خوشبو کے آخری دن ۔ کانٹوں کا سفر ۔ سانسوں کارشتہ ۔ محبت کی موت ۔ رشتے کا بھرم ۔ وعدوں کا سمندر ۔ قسموں کی کی یادیں ۔ ساتھ گزرے ہوۓ لمحات ۔جنت میں ملنے کا وعدہ ۔ آج سب کچھ خاک ہونے جا رہا تھا آج سب ختم ہونے جا رہا تھا وہ شدت کی چاہت ایک چھوٹے سے جھگڑے پر ایک پل میں مٹنے والی تھی بڑوں کے فیصلے سے وہ طلاق کےسمیر پہ قیامت کا منظر تھا وہ جنت کو کھونا نہیں چاہتا تھا جنت بھی سمیر کو سینے سے لگانا چاہتی تھی لیکن بات انا کی تھی انا قربان کرتا تو کون کرتا ۔ تھوڑا سا جھکنا اور محبت سینے سے لگ جاتی ۔ لیکن کیسے ؟ کس قیمت پر ؟ جنت کی آنکھوں میں آنسوں کا ایک طوفان جو طلاق کے پیپر پر گر رہا تھا جنت کانپ رہی تھی

سمیر کے ہاتھ میں چن تھا بس بچھڑنا ایک دستخط کی دوری یہ تھا سمیر کی آنکھوںسے وہ محبت کے لمحے وہ جنت کی تھوڑی سی ناراضگی پر جان نکل جانا سب آنکھوں کے سامنے سے گزر رہا تھا اتنی محبت پہ کوئی دو پہر کیسے آ سکتی ہے میرے بعد جنت کیسے رہے گی میں تو جنت کو ایک پل کے لیے بھی جدا نہیں کر سکتا تھا اور آج میں اپنی جنت کو اس قدر دکھ دے رہا ہوں سمیر یہ سب سوچ رہا تھا کےسمیر کی ہمت صبر ٹوٹ گیا ۔وہ بھاگتا ہوا جنت کے پاس گیا اور جنت کے قدموں پہ اپنے ہونٹ رکھ دیئے سب رشتہ دار پاس کھڑے دیکھ رہے تھے جنت نے بھی ایک لمحہ نہ لگایا اور سمیر کو زور سے سینے سے لگا لیا اور چیخ چیخ کر رونے لگی سمیر تم مجھے مچھوڑنا چاہتے ہو سمیر نے جنت کے ہونٹ پہ اپنی انگلی رکھ کر نہ میں سرہلا دیا کانپتی آواز میں بولا ہم ایک چھوٹے سے جھگڑے کہ وجہ سے انا کی وجہ سے بچھڑ جائیں اتنی سستی تو نہیں ہے ہماری محبت ۔ وہ دونوں انا کو قربان کر کے ایک دوسرے کو معاف کر کے پہلے کی طرح زندگی گزارنے لگے ذرا سوچیں چھوٹے چھوٹے جھگڑے ناراضگیاں انا غرور ہم کو کہاں سے کہاں تک لے جاتا ہے چاہیں

تو تھوڑی ہمت کر کے ہم بھی سمیر اور جنت کی طرح محبت کو سینے سے لگا سکتیں ہیں ۔ چاہیں تو بچھڑ کر زندگی بھر کے لیے آنسو آنکھوں میں ۔مقدر میں ۔بسا سکتے ہیں

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published.