اگر اللہ نے مجھے بیٹی دی تو۔۔۔۔دعا زہرا کا ایسا بیان کہ پاکستانی دنگ رہ گئے

یوٹیوبر زنیرا کے ساتھ لائیو سیشن میں گفتگو کے دوران دعا زہرا نے اپنے والدین سے مخاطب ہوتے ان سےکہا کہ ضِد چھوڑ دیں، مجھے اور میرے شوہر کو قبول کرلیں، میں اغوا نہیں ہوئی ہوں اور یہ بات میرے والدین کو پہلے دن سے معلوم ہے ،دعا کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ اپنی بیٹی کی

دوست بن کر رہوں گی تاکہ بھاگنے کی نوبت نہ آئے گی۔دوران گفتگو دعا نے تمام یوٹیوبرز کے لیے پیغام دیا کہ میرے شوہر سے متعلق یہ کہنا کہ وہ کسی گینگ کا حصہ ہے۔ یہ سب بند کردیں، مجھے کسی کی ہمدردیوں کی ضرورت نہیں، مجھے پتا ہے کہ آپ کو میرا کتنا خیال ہے۔دعا زہرا نے ویڈیو میں کہا کہ آپ سب میرے شوہر ظہیر کی عزت کریں، لائیو سیشن میں یوٹیوبر زنیرا نے کمنٹس پڑھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ یوٹیوبر نے کسی صارف کا ایک کمنٹ پڑھ کر دعا کو سُنایا جس میں لکھا تھا کہ اللہ کرے آپ کی بھی ایسی بیٹی ہو اور وہ گھر سے بھاگے۔اس پر دعا زہرہ نے جواب دیا کہ میں اپنی بیٹی کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم رکھوں گی، اس کی دوست بن کر رہوں گی تاکہ بھاگنے کی نوبت ہی نہ آئے اور وہ جب چاہے مجھ سے ایسی باتیں شیئر کرلے۔ دعا زہرہ نے مزید بتایا کہ وہ جب لاہور پہنچی تو پنجاب یونیورسٹی کے پاس بیٹھی لڑکیوں سے موبائل لے کر ظہیر کو کال کی کیونکہ اس کے پاس فون نہیں تھا، وہ اتوار کا دن ضرور تھا مگر کچھ طلبہ وہاں موجود تھے۔علاوہ ازیں تفتیشی افسر نے دعا زہرا کے شوہر ظہیر کو بے گناہ قرار دے دیا۔سٹی کورٹ کراچی میں دعا زہرا کیس کے تفتیشی افسر شوکت شاہانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ظہیر پر اغوا کا مقدمہ نہیں بنتا، اسے ہم نے حفاظتی تحویل

میں لیا، دعا اور ظہیر کی پب جی کے ذریعے دوستی ہوئی تھی، وہیں نکاح کی بات ہوئی تھی، شوہر پر کیس بنتا ہی نہیں۔دوسری جانب آج لاہور ہائیکورٹ نے دعا زہرا کی ساس کی درخواست پر تحریری حکم جاری کردیا ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایک صفحہ پر مشتمل ہراساں کرنے کی درخواست کا تحریری حکم جاری کیا۔ہراساں کرنے کی درخواست دعا زہرا کی ساس کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایس ایس پی نے بیان دیا کہ درخواست گزاروں کو پولیس ہراساں نہیں کرتی ہے۔اس موقع پر عدالت نے درخواست کو نمٹانے کا حکم بھی دیا ۔ عدالتی فیصلے میں بتایا گیا کہ دعا زہرا کو عدالت کے روبرو ہمارے حکم پر لایا گیا۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ عدالت میں سندھ ہائیکورٹ کا حکم نامہ پیش کیا گیا، سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرا کو مرضی کے مطابق رہائش پذیر ہونے کا حکم دیا تھا،جبکہ اس معاملے میں لاہور ہائی کورٹ کوئی حکم نہیں دے رہی۔عدالتی فیصلے کے مطابق دعا زہرا کی ساس سمیت دیگر نے پولیس کو ہراساں کرنے سے روکنے کی درخواست دائر کی تھی۔واضح رہے کہ دعا زہرا کے شوہر ظہیر کی والدہ اور بھائی نے لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کے خلاف ہراساں کرنے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔درخواست ظہیر کی والدہ نور بی بی نے دائر کی جس میں پنجاب پولیس کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ عدالت پنجاب پولیس کو حراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.